نئی دہلی،یکم مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے پیر کو جموں و کشمیر اور مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست میں اقلیتوں کی شناخت کر کے انہیں فائدہ پہنچانے کے معاملے میں دائر مفاد عامہ کی عرضی کو لے کر میٹنگ طلب کرکے رپورٹ داخل کرے۔اس معاملہ میں اگلی سماعت 31/جولائی کو ہوگی۔چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر کی صدارت میں سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے انکور شرما کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایت دی ہے۔انکور شرما کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں ہندو اقلیت ہیں اور مسلم اکثریت ہیں۔اس کے باوجود ریاست میں 68فیصد مسلمانوں کو ہی اقلیت کے تحت فائدہ مل رہا ہے، جبکہ صحیح معنوں میں ہندوؤں کو یہ سہولیات ملنی چاہیے۔عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ 50سالوں سے ریاست میں اقلیتوں کو لے کر کوئی رائے شمار نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اقلیتی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے،اس لیے اقلیتی کمیشن بھی بنایا جائے۔گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جموں کشمیر اور مرکزی حکومت آپس میں بیٹھ کر یہ طے کرے کہ کیا جموں و کشمیر میں مسلمان اقلیت ہیں یا نہیں، اس کے تحت انہیں فلاحی اسکیموں کا فائدہ ملنا چاہیے یا نہیں۔